برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کی تعریف کی گونج؛ امریکہ ایران جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار عالمی سطح پر سراپا گیا
لندن: امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین کشیدگی کو ختم کروانے اور دونوں حریفوں کو تاریخی امن معاہدے کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی گونج اب برطانوی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا ‘ہاؤس آف لارڈز’ (House of Lords) میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور خطے کی صورتحال پر ہونے والی اہم بحث کے دوران متعدد سینئر اراکین نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور اس کی کامیاب سفارتی حکمتِ عملی کو کھلے الفاظ میں سراہا ہے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ طارق احمد نے کہا کہ انہیں پختہ یقین ہے کہ برطانوی ایوان میں موجود حکومتی وزرا سمیت تمام اراکینِ پارلیمنٹ امریکہ اور ایران کے مابین شدید بحران کو کم کرنے اور تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانے میں پاکستان کے کلیدی اور تاریخی کردار کو دل سے تسلیم کریں گے۔
انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے تحفظ کے لیے انتہائی قابلِ ذکر سفارتی کاوشیں سرانجام دی ہیں۔
برطانوی ایوانِ بالا کی اہم ترین رکن بیرونس چیپ مین نے بھی اس موقع پر پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہیں جس نے امریکہ اور ایران جیسے بڑے ممالک کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز تک پہنچانے اور پسِ پردہ رابطوں کو ممکن بنانے میں پل کا کردار ادا کیا، جو کہ ایک ناممکن ٹاسک دکھائی دے رہا تھا۔
بیرونس چیپ مین آف ڈارلنگٹن نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس انتہائی نازک اور پیچیدہ معاملے میں غیر معمولی، مثبت اور مؤثر ترین کردار ادا کیا ہے؛ ان کی یہ انتھک سفارتی کاوشیں عالمی سطح پر تعریف اور تحسین کی مستحق ہیں۔
دورانِ بحث برطانوی رہنما لارڈ باربر نے اپنی حکومت سے باقاعدہ مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اس عظیم اور تاریخی سفارتی کامیابی پر فی الفور باضابطہ تہنیتی پیغام اور مبارکباد پیش کرے، اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے ان کے مخلصانہ عزم اور کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف کرے۔
سیاسی و سفارتی مبصرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ جیسے معتبر ترین فورم پر پاکستان کے کردار کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا جانا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت، ساکھ اور عالمی امن کے لیے اس کی مخلصانہ پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ معاہدہ کامیابی سے طے پا جاتا ہے، تو اس کا سب سے بڑا کریڈٹ پاکستان کو جائے گا اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تشخص کو مزید چار چاند لگ جائیں گے۔
