پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان؛ روایتی کیٹیگریز ختم، 5 فارمیٹ ٹریکس متعارف

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جدید کرکٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور عالمی ارتقاء کے مطابق اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹس سسٹم میں دوررس اور انقلابی تبدیلیاں کرتے ہوئے ایک بالکل نیا اسٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ پی سی بی نے ‘ایک ہی نظام سب کے لیے’ کی روایتی پالیسی اور پرانی اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز کو ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا ہے۔

اس نئے فریم ورک کے تحت ہر فارمیٹ (ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20) کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے فارمیٹ کی بنیاد پر 5 مختلف ٹریکس متعارف کروائے گئے ہیں، تاکہ ٹیسٹ اسپیشلسٹ اور ٹی20 فرنچائز کھلاڑی کو ایک ہی ترازو میں تولنے کے بجائے ہر ایک کے ساتھ پورا انصاف کیا جا سکے۔

نئے اسٹرکچر کے مطابق، سب سے اعلیٰ درجہ ٹریک اے بی (دوہرا فارمیٹ) ہوگا، جو ٹیسٹ اور ون ڈے کے ان مایہ ناز کھلاڑیوں کے لیے مخصوص ہے جو ٹیم کی بنیاد ہیں۔

ٹریک اے صرف ریڈ بال (ٹیسٹ) کرکٹ کے ماہرین کے لیے ہوگا تاکہ طویل فارمیٹ کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ٹریک بی سی ون ڈے اور ٹی20 کے وائٹ بال کرکٹرز کے لیے، ٹریک سی خاص طور پر ٹی20 اسپیشلسٹ اور فرنچائز کرکٹرز کے لیے جبکہ ٹریک ڈی نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے نظام سے منسلک ابھرتے ہوئے (ایمرجنگ) کھلاڑیوں کے لیے ایک ترقیاتی راستہ ہوگا۔

پی سی بی کے مطابق، ہر ٹریک کے اندر مزید 2 داخلی درجات (انٹرنل لیولز) بھی ہوں گے، جن کے ذریعے کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ان کی ترقی یا تنزلی کا فیصلہ شفاف انداز میں کیا جائے گا۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے لاہور میں اہم بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ڈیٹا کو شامل کیا جا رہا ہے اور کھلاڑیوں کا 85 فیصد کنٹریکٹ مکمل طور پر کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا پابند کیا جا رہا ہے اور جو نہیں کھیلے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ فٹنس ٹیسٹ میڈیا کے سامنے ہوں تاکہ مکمل شفافیت رہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ قومی ٹیم کے نتائج باہمی سیریز میں تو اچھے ہیں مگر بڑے ٹورنامنٹس میں اچھے نہیں رہتے، جس پر اب کام ہو رہا ہے اور جلد بہتری دکھائی دے گی۔ بورڈ نے نئے کنٹریکٹ کی دستاویزات میں ایک ایک چیز کی تفصیل شامل کی ہے اور کھلاڑیوں کو اس پر مکمل بریفنگ دی جا چکی ہے۔

اس نئے نظام کی ایک اور سب سے بڑی اور تاریخی خصوصیت یہ ہے کہ پی سی بی نے ٹیسٹ کرکٹرز کو مالی تحفظ فراہم کرنے اور دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول کا تجربہ دلانے کے لیے پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال (فور ڈے) مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے، تاہم کمرشل فرنچائز ٹی20 لیگز اس گروپ کے لیے بدستور بند رہیں گی۔

یہ پورا جوابدہ نظام 2026 کے کنٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور کسی بھی کھلاڑی کو کنٹریکٹ دینے سے قبل تین کڑے مراحل سے گزرنا ہوگا، جن میں جامع میڈیکل و فٹنس ٹیسٹ، ڈومیسٹک کرکٹ میں لازمی شرکت اور فارمیٹ کے مطابق کارکردگی کا باریک بینی سے تجزیہ شامل ہے۔ پی سی بی کو امید ہے کہ یہ اصلاحات پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر ایک منفرد اور مضبوط مقام دلائیں گی۔