پنڈی اور اسلام آباد میں ایسا تعاون پہلے ہوتا تو پاکستان کئی سنگ میل طے کر چکا ہوتا، وزیر دفاع خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور یادگار دور سے گزر رہا ہے، جہاں ملک کو وہ کامیابی ملی ہے جس کی مثال پچھلے 78 سالوں میں نہیں ملتی۔

انہوں نے پنڈی (عسکری قیادت) اور اسلام آباد (سیاسی قیادت) کے درمیان موجودہ مثالی ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر آج سے پہلے بھی پنڈی اور اسلام آباد میں اتنا شاندار تعاون ہوتا تو پاکستان کو کئی بین الاقوامی اعزاز مل چکے ہوتے اور ملک متعدد تاریخی سنگ میل طے کر چکا ہوتا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں سے جاری مخلصانہ کوششوں کا سب سے بڑا پھل اللہ تعالیٰ نے آج پاکستان کو عطا کیا ہے، جس پر پوری قوم شکر گزار ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ایرانی بھائیوں اور ان کی قیادت کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایرانی قیادت نے انتہائی کٹھن اور مشکل حالات میں اپنی قوم کی بہترین نمائندگی کی ہے، جس کے بعد ایران کے ساتھ دہائیوں سے ہونے والی ناانصافیاں اور زیادتیاں اب ختم ہوں گی۔ انہوں نے امریکی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بالاخر ان زیادتیوں کا احساس کیا۔

اس کے ساتھ ہی خواجہ آصف نے ایران امریکہ ڈیل میں پاک فوج کے سربراہ کے کلیدی کردار کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک سال کے دوران دو جنگیں جیت لی ہیں؛ وہ بھارت کے خلاف فاتح سپہ سالار بھی ہیں اور امن کے محاذ پر کمال صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے والے فاتح سفارت کار بھی ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے دونوں محاذوں پر سرخرو ہو کر ملکی مفاد میں یکسوئی کا بہترین ثبوت دیا ہے۔

خواجہ آصف نے ایوان کو یاد دلایا کہ ایک سال قبل ملک نے ایک اور جنگ بھی لڑی تھی جس میں ہماری افواج نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا تھا، اور اب اگلا ہدف معاشی محاذ اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی جنگ ہے اور اگر پوری قوم اس کے خلاف متحد ہو جائے تو اس محاذ پر بھی ہمیں مکمل فتح حاصل ہوگی۔

انہوں نے سفارتی محاذ پر ملنے والی اس عظیم فتح سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں اور خلیجی ممالک کے برادر ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو ختم کریں تاکہ غزہ، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک مضبوط اور متحد کردار ادا کیا جا سکے۔