محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، ایرانی سپریم لیڈر کے نام وزیراعظم پاکستان کا اہم ترین خط حوالے کر دیا
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی کے دوران پاکستان نے امن کے لیے اپنی اعلیٰ سطحی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر اعظم شہباز شریف کا خصوصی اور انتہائی اہم پیغام لے کر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (اور نو منتخب قیادت) کے نام وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی خط اور اہم ترین پیغامات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کیے۔ محسن نقوی نے تہران روانگی سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی عسکری و سیاسی قیادت کے لیے اسٹریٹجک نوعیت کے پیغامات لے کر جا رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور علاقائی امن و امان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ایران کے خلاف مسلط کردہ امریکی و صہیونی جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی زیرِ نگرانی جاری پسِ پردہ سفارتی عمل اور اسلام آباد مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں اطراف نے خطے میں جاری اس تصادم کو مستقل جنگ بندی میں بدلنے کے سفارتی طریقوں پر غور کیا۔
محسن نقوی کا یہ دورہ ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہا ہے جب خطے میں فوجی تصادم کی لہر سنگین ترین رخ اختیار کر چکی ہے۔ حال ہی میں امریکا کی جانب سے ایران کی ساحلی نگرانی کے ریڈار تنصیبات پر شدید حملے کیے گئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک (کویت اور بحرین) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس سنگین صورتحال نے پوری خلیجی پٹی اور آبنائے ہرمز کو وسیع علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی خطے میں جاری اس خطرناک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام فریقین پر تحمل اور مکالمے پر زور دیتا رہا ہے۔ اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو جاری تنازعات پورے خطے کے امن، معیشت اور استحکام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

