راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران گزشتہ 72 گھنٹوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 27 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں میران شاہ کے عمومی علاقے میں متعدد مقامات پر کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم نیٹ ورک کے 27 انتہا پسند مارے گئے۔ فورسز نے ٹھکانوں کو کلیئر کرنے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، بارودی مواد اور گولہ بارود بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے یہ خارجہ عناصر معصوم شہریوں کے قتل اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ اس گروہ کے مکمل خاتمے کے ساتھ ہی میران شاہ کی معروف اور ممتاز سماجی شخصیت شہید ملک سیف اللہ داوڑ کی ٹارگٹ کلنگ کا بدلہ لے لیا گیا ہے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام کردار اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں روپوش مزید ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا سرچ اور کلیئرنس آپریشن تفتش کے ساتھ جاری ہے۔ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت، پاکستان کے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کی دھرتی سے بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف نے شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی اس بڑی اور کامیاب کارروائی پر جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم کو اپنے بہادر جوانوں پر فخر ہے اور ‘عزمِ استحکام’ کے تحت اس ناسور کے خلاف جنگ کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی اشاروں پر کام کرنے والے فتنہ الخوارج کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان کے اضلاع پنجگور سمیت دیگر علاقوں میں بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں، جہاں فتنہ الہندوستان اور دیگر نیٹ ورکس کے متعدد دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا گیا ہے۔

