تہران: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور حساس مشن پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تاریخی مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس دورے کی سب سے اہم کڑی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نام فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وہ خصوصی پیغام ہے جو محسن نقوی خود ان تک پہنچائیں گے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی کی تہران روانگی سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے لاہور میں اہم مشاورت کی اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ محسن نقوی سپریم لیڈر کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ سے ہونے والی حالیہ ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
عرب میڈیا اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مذاکرات کا مرکز ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم فنڈز کے کل حجم اور ان کے اجرا (Release) کے وقت کے حوالے سے فریقین میں تاحال اختلافات برقرار ہیں۔ محسن نقوی تہران میں ایک ایسی مفاہمتی یادداشت (MoU) تک پہنچنے کے طریقوں پر بات کر رہے ہیں جو دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔
سفارتی ذرائع نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ مذاکرات کا یہ عمل 60 دن سے زیادہ نہیں چلے گا۔ اب یہ گیند ایران کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس محدود وقت میں کتنا تیزی سے جواب دیتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کے مطابق محسن نقوی کا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں قیامِ امن اور دو بڑے عالمی حریفوں کو قریب لانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پیغام اور وزیراعظم کی سفارتی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان اس ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
تہران میں ہونے والی یہ ملاقاتیں نہ صرف پاک ایران تعلقات بلکہ عالمی ورلڈ آرڈر میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت سمجھی جا رہی ہیں۔

