گلگت: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی موجودہ حالت پر سخت دکھ کا اظہار کیا اور مستقبل کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا روڈ میپ پیش کیا۔
گلگت پہنچنے پر نواز شریف نے شہر کی سڑکوں کی حالت زار پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت کی سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر ان کا دل روتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ "جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ مانسہرہ سے گلگت تک سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی کی برائی نہیں کرنا چاہتا لیکن پوچھتا ہوں کہ ان چیزوں کو نظرانداز کیوں کیا گیا؟”
نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان میں اگر کوئی ترقی ہوئی تو وہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوئی۔ انہوں نے اسپتالوں، ہائیڈل پاور پلانٹس اور لواری ٹنل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی اور جماعت نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ تک نہیں لگائی۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے گلگت ایئرپورٹ کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے لیکن اسے بڑا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے بات کر کے ایئرپورٹ کی توسیع کرائیں گے تاکہ ہفتے میں 3 کے بجائے 30 پروازیں آ سکیں۔
انہوں نے لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ یہاں سردیوں اور گرمیوں میں طویل لوڈشیڈنگ انہیں کسی صورت منظور نہیں اور وہ شمسی توانائی اور دیگر منصوبوں کے ذریعے اسے ختم کرائیں گے۔
اپنے خطاب میں نواز شریف نے اپنی سیاسی جدوجہد اور ماضی کی برطرفیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے عوام سے گلہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے گلہ نہ کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا اور ملک چھوڑنا پڑا؟
نواز شریف نے اعلان کیا کہ اگر ان کی حکومت بنی تو وہ ہر دوسرے تیسرے مہینے خود گلگت آ کر منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے درج ذیل سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا:
- ہونہار بچوں کے لیے لیپ ٹاپس اور اسکالرشپس۔
- خواتین کے لیے یونیورسٹی کا قیام۔
- نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرضے۔
- پنجاب کی طرز پر گھر بنانے کے لیے آسان اقساط پر قرضہ اسکیم۔
- گلگت میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی۔
سابق وزیراعظم نے بتایا کہ 2017 میں انہوں نے گلگت بلتستان کو این ایف سی (NFC) میں حصہ دینے کے لیے سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی لیکن 2018 میں ان کی حکومت ختم کر کے اس عمل کو روک دیا گیا۔
انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دور میں زمین کی خریداری کے لیے 100 ارب روپے دیے گئے تھے، لیکن افسوس کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود ڈیم مکمل نہیں ہو سکا۔
دورے کے دوران وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب بھی ان کے ہمراہ تھے۔

