واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور گھمسان کی جنگ کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بڑے یوٹرن نے دنیا کو ایک نئے ہیجان اور اضطراب سے بچا لیا ہے۔
پہلے تو صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کے عندیہ پر انتہائی سرد مہر رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے، تاہم اب وہ اپنے سابقہ بیان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور انہوں نے ایران کے ساتھ ایک ہفتے میں تاریخی معاہدے کا اشارہ دیدیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مختصر لیکن نہایت بروقت بیان جاری کیا جو دنیا کے لیے ایک نوید بن کر سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنی تازہ پوسٹ میں اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہیں۔
یہ بیان اس سخت بیان کے فوراً بعد آیا ہے جس میں ٹرمپ نے ایرانی فیصلے پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ "مجھے مذاکرات معطل ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ویسے بھی اب یہ مذاکراتی عمل بہت بورنگ ہو گیا ہے”۔ ماہرین کے مطابق ایران کی سخت دھمکی اور پوزیشن کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایرانی دھمکی کے بعد فوری طور پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں لبنان میں حزب اللہ پر مزید حملے کرنے سے روک دیا۔ ٹرمپ کے مطابق، امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ سطح کے ذرائع نے حزب اللہ کی قیادت سے بھی بات چیت کی ہے، جس کے بعد حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے امریکا نے اسرائیل پر دباؤ ڈال کر حزب اللہ پر حملے رکوائے۔
امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پا جائے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس ممکنہ ڈیل کے تحت خطے میں جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور سب سے اہم بات یہ کہ تجارتی لحاظ سے انتہائی حساس اور بند کی گئی ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کو دوبارہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کہا تھا کہ امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے گا کیونکہ یہ ناکہ بندی ‘آہنی’ ہے، اور امریکا اس وقت کا انتظار کرے گا جب ایران امریکی شرائط پر ڈیل کے لیے تیار ہو۔ تاہم، تازہ ترین پیش رفت بتاتی ہے کہ دونوں ممالک اب لچک دکھانے پر مجبور ہو چکے ہیں اور ایک بڑے بریک تھرو کے قریب ہیں۔

