خیبرپختونخوا پی ٹی آئی میں بغاوت کے بادل؛ گنڈاپور اور سہیل آفریدی آمنے سامنے

پشاور: خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں موجودہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان شدید لفظی تکرار ہوئی ہے، جس نے صوبے میں فارورڈ بلاک کی افواہوں اور پارٹی کے اندرونی بحران کو مزید ہوا دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق، تنازع اس وقت شروع ہوا جب وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی گروپ میں ایک میسج شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر پارٹی کے اندر اور باہر سے صوبائی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے اس مبہم بیان پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور شدید برہم ہو گئے اور کرارا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ "تم نام کیوں نہیں لیتے، ‘اس کا، اس کی’ جیسے ڈائیلاگ کیوں مارتے ہو؟ وزیراعلیٰ صاحب! غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی اتھارٹی آپ کے پاس نہیں ہے۔ عمران خان کے ساتھ کون کھڑا ہے اور کون نہیں، یہ باتوں سے نہیں عمل سے ثابت ہوتا ہے۔”

علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ پر چھپ کر ملاقاتیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ فیصلوں کا اختیار صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس ہے، ہم ان کے علاوہ کسی کو نہیں مانتے، اس لیے آپ کو جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں صرف ان پر فوکس کریں۔

واٹس ایپ گروپ میں اس تلخ کلامی کے بعد پشاور کا سیاسی درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا ہے اور خبریں ہیں کہ پی ٹی آئی کے 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی (MPAs) وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور رویے سے ناخوش ہیں۔

حالات کو سنبھالنے کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود متحرک ہو گئے ہیں اور رات گئے ناراض رکنِ اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے گلے شکوے دور کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ عبدالغنی آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ ملاقات میں صرف ضلع خیبر کے ترقیاتی امور پر بات ہوئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے وزیراعلیٰ کو ناراض ارکان کو ہر صورت ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے فارورڈ بلاک کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں سخت ترین وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے بھی ایسی کوئی حرکت کی تو خیبرپختونخوا کی زمین اس پر تنگ کر دی جائے گی۔ جو بھی بانی پی ٹی آئی کی لائن سے ادھر ادھر ہوگا، اس کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی، پرویز خٹک اور محمود خان اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو تمام ایم پی ایز کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور سب بانی پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ لے کر آئے ہیں، کسی کا کوئی ذاتی ووٹ نہیں ہے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر کسی کو اپنے اوپر اتنا ہی ناز ہے تو آزاد الیکشن لڑ کر دیکھ لے، اسے 200 ووٹ بھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارلیمانی میٹنگ شروع ہو چکی ہے اور تمام ارکان وزیراعلیٰ کی قیادت میں متحد ہیں۔