200 یونٹ والے صارفین کی سبسڈی برقرار رہے گی، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا بڑا اعلان

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے حق دار اور پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی۔ تاہم، اب اس نظام کو شفاف بنانے کے لیے بجلی کے میٹرز کو بلوں پر موجود ‘کیو آر کوڈ’ (QR Code) سے منسلک کیا جائے گا اور اسی معلومات کی بنیاد پر سبسڈی کا حتمی فیصلہ ہوگا۔

اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کو حقائق کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی پر سبسڈی لینے والے گھریلو اور زرعی صارفین کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جنہیں سالانہ 527 ارب روپے کا ڈسکاؤنٹ دیا جا رہا ہے۔ اب تک 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین کیو آر کوڈ رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے سولر سسٹم لگانے والے امیر صارفین کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بڑے بڑے سولر سسٹم لگا کر (نیٹ میٹرنگ کے ذریعے) اپنا بل 200 یونٹ سے نیچے لے آئے ہیں، وہ دراصل 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے اور پورا بل دینے والے غریب صارفین پر بوجھ بن چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سولر توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی بلکہ نظام کو شفاف بنایا جا رہا ہے۔ نیٹ بلنگ پالیسی سے 90 فیصد گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔

نیپرا نے پاور ڈویژن کی درخواست پر 25 کے وی (KV) یا اس سے کم کے چھوٹے سولر منصوبوں کے لیے لائسنسنگ کی شرط مکمل ختم کر کے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ ختم نہیں ہوئی، صرف بلنگ طریقہ کار میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ اس وقت عوام گرڈ اور آف گرڈ سولر پر 50 ہزار میگاواٹ تک کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ مارچ 2024 سے مئی 2026 تک تمام کیٹیگریز کے لیے بجلی کے نرخ کم ہوئے ہیں جہاں پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے نرخوں میں 31 فیصد نمایاں کمی، گھریلو و زرعی صارفین کے لیے بالترتیب 16 فیصد اور 14 فیصد ریلیف اور صنعتی و کمرشل صارفین کے لیے بالترتیب 33 فیصد اور 8 فیصد بجلی سستی ہوئی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں 45 فیصد تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اویس لغاری نے محکمے کی کارکردگی بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز (IPPs) معاہدوں پر نظرثانی سے 3500 ارب روپے کی تاریخی بچت ہوئی ہے۔ ڈسکوز (Discos) کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے جبکہ سال 2024-25 میں گردشی قرضے (Circular Debt) میں 780 ارب روپے کی ریکارڈ کمی لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کا شیئر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے جو بھارت (48 فیصد) سے بہتر ہے۔ سال 2035 تک ملک میں کلین انرجی کا شیئر 90 فیصد تک لے جایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے لیسکو (LESCO) سے متعلق ٹوئٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کا ٹوئٹ خود احتسابی کا عمل تھا۔ لیسکو میں ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے شہریوں سے 80 ہزار روپے بٹورنے والے لائن سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت ایکشن لے لیا گیا ہے۔ حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بھی مالی بوجھ کم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔