ایران ڈیل پر سسپنس برقرار؛ وائٹ ہاؤس سچویشن روم کا 2 گھنٹے طویل اجلاس بے نتیجہ ختم، صدر ٹرمپ حتمی فیصلہ نہ کر سکے
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ممکنہ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاحال کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے۔ وائٹ ہاؤس کے انتہائی حساس ’سچویشن روم‘ میں ہونے والا اعلیٰ سطح کا مشورتی اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس اہم اجلاس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اعلیٰ عسکری و سفارتی مشیروں نے شرکت کی۔ وائٹ ہاؤس نے اجلاس کے ختم ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس کی جزیات کو صیغہِ راز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ صرف اسی صورت میں قلم اٹھائیں گے جب معاہدہ مکمل طور پر ان کی سخت شرائط اور امریکی مفادات کے عین مطابق ہوگا۔
نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قطر میں منجمد ایرانی فنڈز کا معاملہ ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں بائیڈن انتظامیہ نے قیدیوں کے تبادلے کے عوض 60 لاکھ ڈالر کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔ موجودہ انتظامیہ ان فنڈز کے استعمال اور ایران کو ملنے والی مالی رعایتوں پر ازسرِ نو غور کر رہی ہے، جس کی وجہ سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط مؤخر ہو رہے ہیں۔
معاہدے پر تذبذب کے باوجود، صدر ٹرمپ نے ایک بڑا علامتی قدم اٹھاتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی مخصوص فاتحانہ لہجے میں کہا کہ وہ تمام جہاز جو آبنائے ہرمز میں ہماری شاندار اور بے مثال ناکہ بندی کی وجہ سے پھنس گئے تھے، اب اپنی گھر واپسی کا سفر شروع کر سکتے ہیں۔ ہم نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدام کیا، اور اب وہاں سے تمام آبی بارودی سرنگیں ختم کر دی جائیں گی۔
واشنگٹن کے حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اپنے اس اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ اگرچہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن "آخری لمحات کی رکاوٹیں” تہران کی جانب سے بعض مطالبات اور منجمد فنڈز کی واپسی سے جڑی ہوئی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا خاتمہ ایران کو مذاکرات کی میز پر رکھنے کی ایک کوشش ہے، لیکن حتمی ڈیل کے لیے تہران کو واشنگٹن کی ‘سخت شرائط’ تسلیم کرنا ہوں گی۔

