فلسطین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ابراہیمی معاہدے پر افواہیں دم توڑ جائیں گی؛ اسحاق ڈار

واشنگٹن: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونے کی تجویز پر دوٹوک اور واضح ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ابراہیمی معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔ جب تک 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بحالی اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک پاکستان ابراہیمی معاہدے یا کسی بھی ایسی ڈیل کا حصہ نہیں بنے گا۔ ہماری پالیسی میں اس حوالے سے کوئی لچک نہیں آئے گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر کہا تھا کہ ایران امریکہ معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کو ابراہیمی معاہدے (اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی) کا حصہ بن جانا چاہیے۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کے عالمی سفارتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا کہ پاکستان نے 47 سال بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بٹھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کی مرہونِ منت ہے، جس سے پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر ‘امن کے معمار’ کے طور پر ابھرا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کو عالمی افق پر ایک نئی اور مستحکم شناخت ملی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی وہ دیرینہ پالیسی جس کا مقصد پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنا تھا، بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو انتہائی خوشگوار قرار دیا اور بتایا کہ اس ملاقات میں پاکستانی سفیر اور دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جس میں پاک امریکہ تعلقات کو نئی سمت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔