خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی دو حصوں میں تقسیم؛ 20 سے زائد ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ناراض

پشاور: خیبر پختونخوا کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب صوبائی اسمبلی میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت اور طرزِ حکمرانی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایک الگ گروپ بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ناراض گروپ میں شامل ارکان کا موقف ہے کہ صوبے میں گورننس اور امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ارکان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بیوروکریسی سے اپنی بات منوانے میں ناکام ہیں اور صوبائی افسران وزیراعلیٰ کے بجائے وفاق کے احکامات کو ترجیح دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں مخصوص حلقوں کو نوازنے اور دیگر کو نظر انداز کرنے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ کابینہ توسیع پر بھی کئی سینیئر ارکان خوش نہیں ہیں، جس سے پارٹی کے اندر دھڑے بندی واضح ہو گئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ارکانِ اسمبلی کی گروپ بندی سے متعلق خبریں جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے صرف مایوس ہوں گے۔ تمام ارکان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں متحد ہیں اور انہیں بانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔

بجٹ سے عین قبل ناراض گروپ کا سامنے آنا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی ‘آزاد حیثیت’ کی وجہ سے ناراض ارکان بجٹ سیشن میں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

صورتحال پر قابو پانے کے لیے وزیراعلیٰ نے پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے اور تمام ارکان کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومتی وزراء نے ناراض ارکان سے رابطے شروع کر دیے ہیں، تاہم انہیں یہ سخت پیغام بھی پہنچایا گیا ہے کہ اگر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کی گئیں تو آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔

ناراض ارکان نے بھی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے قبل اپنی الگ مشاورت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں پشاور کی سیاست مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔