عالمی امن کے لیے 2 لاکھ 37 ہزار پاکستانی فوجیوں کی خدمات، 183 نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا؛ آئی ایس پی آر کا ‘بلیو ہیلمٹس’ کی قربانیوں کو شاندار خراجِ تحسین
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بین الاقوامی یومِ اقوامِ متحدہ امن فوجیوں کے موقع پر ایک خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے دنیا بھر میں امن کے مقدس مقصد کے لیے خدمات انجام دینے والے پاکستانی اور بین الاقوامی ’’بلیو ہیلمٹ‘‘ امن فوجیوں کی بے مثال قربانیوں اور خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کا ایک انتہائی فعال اور اہم ترین حصہ رہا ہے۔ سنہ 1960ء سے لے کر اب تک 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد پاکستانی امن فوجیوں نے دنیا کے پسماندہ اور جنگ زدہ خطوں میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔
عالمی امن کے قیام کی خاطر فرض کی راہ میں اب تک 183 پاکستانی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
ترجمان آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستانی ’’بلیو ہیلمٹس‘‘ اس وقت بھی دنیا کے خطرناک ترین خطوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں، جن میں بنیادی طور پر کانگو، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ (CAR) شامل ہیں۔ ان علاقوں میں پاکستانی فوجی فعال عسکری کارروائیوں سے لے کر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے انسانی مسائل سے نمٹنے تک متنوع اور کثیر جہتی آپریشنز کی قیادت کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے موجودہ دور کے سکیورٹی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاصر جنگی علاقے اب انتہائی پیچیدہ، غیر مستحکم اور غیر متوقع نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ آج کے امن فوجیوں کو روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ بدترین ہائبرڈ خطرات کا سامنا ہے، جن میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات، ڈیجیٹل میڈیا پر معلومات کی غلط تشہیر (Misinformation)، سیاسی انتشار، اور موسمیاتی بنیاد پر پیدا ہونے والی انسانی ہنگامی صورتحال شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق سال 2026ء کے لیے اقوامِ متحدہ کا منتخب کردہ موضوع، ’’امن میں سرمایہ کاری کریں‘‘، تنازعات کے بعد ردعمل دینے کے بجائے وقت سے پہلے فعال امن کی حفاظت کرنے کی طرف ایک اہم سفارتی و عسکری نقطہ نظر کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ دور میں امن کو پائیدار بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں ترقی ناگزیر ہو چکی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے زور دیا کہ ہمیں کمزور اور جنگ زدہ آبادیوں کی موثر حفاظت کے لیے جدید انٹیلی جنس نظام، مضبوط شہری تحفظ کے طریقہ کار، اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط آپریشنل فریم ورک میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
بیان کے آخر میں آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان اور اس کی مسلح افواج اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے مقاصد اور بنیادی نظریات کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔ پاکستان بہترین انسانی وسائل، عالمی معیار کی جدید تربیتی سہولیات اور نظامی صلاحیتوں کی تعمیر (Capacity Building) کے ذریعے ‘امن میں سرمایہ کاری’ کے فلسفے پر کاربند رہے گا۔

