اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے، ملک چلانا اصل مسئلہ ہے؛ صدر مملکت آصف علی زرداری

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک اہم اور سیاسی لحاظ سے معنی خیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو مضبوط بنانے اور اسے بحرانوں سے نکالنے کے لیے ہم سب مل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک چلانا اس وقت اصل مسئلہ ہے اور اس مقصد کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر صدارتی محل کے آفیشل پیج سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے سندھ کے شہر مورو میں صوبائی وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی رہائش گاہ پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی معززین اور علاقے کے منتخب اراکینِ اسمبلی سے بھی خصوصی بات چیت کی۔

کارکنوں اور عوام سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے ملکی سلامتی اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے، اپنے ہاتھ بھی مضبوط کریں گے اور اس طرح ملک کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ یہ کسی ذات کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے اور ملک چلانا ہی اصل مسئلہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ 1973ء کے آئین کے تحت کام کیا ہے اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی و آئینی وراثت کو آگے لے کر جائیں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہیں ملکی مسائل کا اتنی گہرائی سے کیسے پتہ چلتا ہے، تو صدر زرداری نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا کہ عام طور پر پی ایچ ڈی (PhD) 3 سال میں ہوتی ہے، مگر میں نے جیل میں 14 سال رہ کر ملکی مسائل اور سیاست کی پی ایچ ڈی کی ہے۔

پاک بھارت حالیہ عسکری تناؤ اور فضائی معرکے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم بھارتی حکومت کو پاکستان نے ایک ہفتے کی جنگ میں وہ سبق سکھایا ہے جسے وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب پاکستان نے بھارت کے جنگی جہاز گرائے تو ان کی عقل ٹھکانے آ گئی۔ ہماری بہادر افواج نے بھارت کے وہ 8 جنگی طیارے مار گرائے جو معصوم پاکستانیوں پر بم گرا کر گئے تھے۔ اس بدترین شکست کے بعد اب دشمن سنبھل نہیں پا رہا، اسلام آباد میں ہمارے گھر پر کوئی ڈرون نہیں گرا۔

صدر زرداری نے عالمی میڈیا کے دہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اندر معصوم مسلمانوں پر جو بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، انہیں بین الاقوامی میڈیا پر جان بوجھ کر نہیں دکھایا جاتا۔

مورو میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران صدر زرداری نے عوامی بہبود پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل ہدف لوگوں کو معاشی خودمختاری دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دور کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف کسان خوشحال ہوگا بلکہ ملک بھی خودکفیل بنے گا۔