ایران کبھی ایٹم بم نہیں بنائے گا، ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ‘بڑے معاہدے’ کا اشارہ
واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری طویل کشیدگی کے خاتمے اور ایک ممکنہ بڑے معاہدے کی جانب اہم پیش رفت کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ سلسلہ وار بیانات میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے معاملات طے پا رہے ہیں، تاہم اس کا حتمی فیصلہ وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے لیے اپنی سب سے پہلی اور اہم ترین شرط واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس بات پر ہر صورت متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی، کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔ یہ ہمارے لیے ناقابلِ سمجھوتہ نکتہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی تجارت کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی جو ناکہ بندی کی گئی تھی، اسے اب ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وہاں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اب اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کریں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، ایران کو اس بات کی ضمانت دینی ہوگی کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی روانی بلا تعطل ہوگی اور کسی بھی جہاز سے کوئی اضافی فیس یا ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی مائن سویپرز پہلے ہی کئی بارودی سرنگیں تباہ کر چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ سرنگوں کو ایران فوری طور پر خود ہٹائے گا یا انہیں تباہ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ تقریباً 11 ماہ قبل امریکی B-2 بمبار طیاروں کے حملے کے نتیجے میں ایران کا جو افزودہ یورینیم کا ذخیرہ پہاڑوں کے نیچے دب گیا تھا، اسے اب باہر نکالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین وہ واحد ممالک ہیں جن کے پاس اس ‘نیوکلیئر ڈسٹ’ کو نکالنے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے۔ یہ عمل ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے قریبی تعاون سے مکمل کیا جائے گا اور نکالے گئے تمام افزودہ مواد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ دیگر تمام کم اہمیت کے حامل امور پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن تاحکمِ ثانی ایران کو کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی یا منجمد فنڈز کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی بحریہ کی کارروائیوں کو ‘عظیم’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے۔

