امریکہ اور ایران کے درمیان بڑی سفارتی پیش رفت؛ 60 روزہ جنگ بندی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ‘مفاہمتی یادداشت’ پر اتفاق

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری تصادم اور حالیہ جھڑپوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بڑی اور تاریخی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اگرچہ ایران کے اعلیٰ حکام نے تاحال اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی وفد نے اپنی قیادت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد دستخط کی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معاہدے کی تمام جزیات سے آگاہ کر دیا گیا ہے، لیکن انہوں نے فوری دستخط کے بجائے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ اس اہم فیصلے پر غور کرنے کے لیے "چند دن” چاہتے ہیں۔

مجوزہ 60 روزہ معاہدے میں کئی ایسے نکات شامل ہیں جو خطے کی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں:

1. آبنائے ہرمز کی بحالی اور بارودی سرنگوں کا خاتمہ

معاہدے کے تحت ایران اس بات کا پابند ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہے گی۔

  • شرائط: کسی بھی بحری جہاز سے کوئی ٹول ٹیکس (محصول) وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں ہراساں کیا جائے گا۔

  • بارودی سرنگیں: ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔

  • امریکی ناکہ بندی: جواب میں امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا، تاہم یہ عمل تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے تناسب سے مرحلہ وار ہوگا۔

2. جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم

ایران اس یادداشت میں باضابطہ عہد کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • 60 روزہ مدت کے دوران پہلا ہدف ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف کرنے کا طریقہ کار وضع کرنا اور یورینیم افزودگی کے مجموعی مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔

3. پابندیوں میں نرمی اور انسانی امداد

امریکہ اس بات کا عہد کرے گا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بعد وہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی اور منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی بحالی پر سنجیدگی سے بات کرے گا۔

  • اس کے علاوہ ایک ایسا نظام (System) بنایا جائے گا جس کے تحت ایران کو فوری طور پر اشیائے ضروریہ اور انسانی امداد کی فراہمی شروع ہو سکے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے کوئی "خفیہ شق” موجود نہیں ہے۔ ایران جتنا زیادہ جوہری رعایتیں دینے پر آمادہ ہوگا، اسے اتنی ہی زیادہ معاشی ریلیف ملے گی۔

ایگزیوس کے مطابق، یہ مفاہمتی یادداشت حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، کیونکہ یہ دونوں فریقین کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لائے گی۔ تاہم، یہ عمل انتہائی نازک ہے کیونکہ جس وقت یہ جزیات طے کی جا رہی تھیں، اسی دوران آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔

امریکی صدر کے مشیروں کا کہنا ہے کہ اگر 60 روز کے اندر ایران نے جوہری معاملے پر "حوصلہ افزا یقین دہانی” نہ کرائی تو صدر ٹرمپ کے پاس معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز دوبارہ کھل جائیں گے۔ اس کے علاوہ خطے سے امریکی افواج کا ممکنہ انخلا بھی حتمی اور جامع معاہدے سے مشروط رکھا گیا ہے۔