امریکہ خطے میں شکست کھا چکا، اب اندرونی چالوں سے ہوشیار رہنا ہوگا؛ ایرانی سپریم لیڈر

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ عسکری جھڑپوں اور میزائل حملوں کے تناظر میں واشنگٹن کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے جارح امریکہ کو ایسا کاری تھپڑ رسید کیا ہے جس نے دشمن کے تمام گھناؤنے اہداف کو خاک میں ملا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عسکری محاذ پر بدترین شکست کھانے کے بعد اب امریکہ ایرانی عوام میں سماجی تقسیم اور اندرونی انتشار کے بیج بونے کی نئی چالیں چل رہا ہے۔

امریکی فوجی اڈوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے جارح امریکہ کو سخت تھپڑ رسید کر دیا ہے۔ اب خطے کی دیگر اقوام اور ممالک امریکی اڈوں کے لیے مزید ‘انسانی ڈھال’ بننے کو تیار نہیں ہیں۔

امریکہ کو اب مشرقِ وسطیٰ میں شرارتوں اور اپنے فوجی اڈوں کے قیام کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، اپنے مظالم کے سہارے کھڑی متزلزل صیہونی حکومت اور اسرائیل بھی اب اپنی عمر کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب، 28 مئی 1980ء کو معرضِ وجود میں آنے والی ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے نئے سیشن کے آغاز پر اراکینِ اسمبلی کے نام اپنے ایک تادینی و تحریری بیان میں سپریم لیڈر نے ملکی بقا اور سکیورٹی کے امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ عیدالاضحیٰ اور نئے پارلیمانی سال کی مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور خصوصاً ملک کی سربلندی کی راہ میں اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف کے کلیدی و بہترین کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اراکینِ پارلیمنٹ، دانشوروں اور سیاسی حلقوں پر زور دیا کہ وہ دشمن کے نئے اور اندھے منصوبوں کو سمجھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ مسلط کرنے، معاشی دباؤ، ظالمانہ پابندیوں، محاصرے اور پروپیگنڈے کے بعد اب دشمن کا اصل نشانہ ایران کا داخلی اتحاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی محاذ پر ہونے والی ذلت آمیز ناکامیوں کا ازالہ کرنے اور غیرت مند ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے ملک کے اندر اختلاف، لسانی و سماجی تقسیم اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اراکینِ پارلیمنٹ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس دور کے بدترین اور مکار جارح کے خلاف سینہ تان کر کھڑی رہنے والی اور تاریخ کا دھارا بدلنے والی بے مثال قوم کی نمائندگی کرنا آپ سب کی بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نصیحت کی کہ سیاسی اختلافات کو کبھی بھی ذاتی تنازع اور مستقل تقسیم میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، بلکہ تمام رہنما اپنی زبان اور عمل دونوں طریقوں سے ملکی یگانگت کو قائم رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد اور غیرمتزلزل یکجہتی ‘تقویٰ’ کے بنیادی اجزا میں شامل ہیں، جو اسلامی ایران کے پرچم تلے اس قوم کو عطا کیے گئے ہیں اور یہی جذبہ بدترین دشمنوں کے خلاف ہماری حتمی فتح کا سب سے اہم عنصر رہے گا۔