امریکہ کے ایران پر ایک ہفتے میں دوسرے فضائی حملے، بندر عباس میں فوجی تنصیبات نشانہ، کویت پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ ناکام
واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اچانک انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر علاقائی جنگ چھڑنے کے خدشات حقیقت میں بدلتے نظر آ رہے ہیں۔
امریکی افواج نے ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ایران کی سرزمین پر براہِ راست فضائی حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی میزائل داغ دیے ہیں۔
اس تازہ ترین عسکری تصادم نے دونوں ممالک کے درمیان جاری بیک چینل مذاکراتی عمل اور ممکنہ امن معاہدے کو شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی جنگی طیاروں نے رات کے آخری پہر (تقریباً ڈیڑھ بجے) ایران کے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے مشرق میں واقع اہم ایرانی عسکری تنصیبات اور ایک گراؤنڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ نے بھی تصدیق کی ہے کہ شہر میں تین زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی تجارتی جہاز پر 4 خودکش ڈرون فائر کیے تھے جنہیں مار گرایا گیا۔ سینٹکام کے مطابق، بندر عباس میں جس زمینی مرکز پر حملہ کیا گیا، وہاں سے چھٹے ڈرون کی لانچنگ کی تیاری کی جا رہی تھی، جسے بروقت کارروائی کر کے روک دیا گیا۔
امریکی حکام نے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری ٹریفک اور امریکی افواج کو لاحق فوری خطرات کے پیشِ نظر کی گئی۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بندر عباس پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب گارڈز (IRGC) نے خطے میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے (ایئر بیس) پر بھاری میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس جوابی میزائل حملے کی باقاعدہ ویڈیو بھی میڈیا پر جاری کر دی ہے۔
اگرچہ ایران نے امریکی اڈے کا نام اور نقصان کی تفصیلات خفیہ رکھی ہیں، تاہم اپنے بیان میں سخت وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ نے مزید مہم جوئی کی تو ایران کا اگلا ردِعمل انتہائی تباہ کن اور فیصلہ کن ہوگا، جس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور نتائج کا ذمہ دار واشنگٹن خود ہوگا۔
علاوہ ازیں، روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر وارننگ شاٹس فائر کر کے اسے الٹے قدموں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
اس دوران جنگ کی چنگاری خلیجی ممالک تک پھیل گئی ہے۔ کویتی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر ہونے والے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اسے ‘مجرمانہ کارروائی’ قرار دیا۔
امریکی سینٹکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے کویت کی طرف ایک بیلسٹک میزائل اور 5 خودکش ڈرون داغے تھے، جنہیں کویتی فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) اور اتحادی افواج نے فضا میں ہی کامیابی سے تباہ کر دیا۔ اس حملے کے بعد کویت اور گردونواح کے خلیجی خطے میں سکیورٹی کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ایران امریکہ تصادم کے ساتھ ہی اسرائیل نے بھی محاذ کھول دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ‘دریائے زہرانی’ کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کو باقاعدہ ‘وار زون’ (جنگی علاقہ) قرار دیتے ہوئے وہاں کے تمام شہریوں کو فوری طور پر گھر بار چھوڑ کر شمال کی جانب منتقل ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے جنوبی لبنان کی اس صورتحال کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔
عسکری تصادم کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اب مذاکرات پر پسماندگی اختیار کر لی ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کی سب سے اہم شہ رگ ہے؛ یہاں جنگ چھڑنے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا امن تباہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہولناک بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

