"پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی”؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کو ‘عظیم شخصیات’ قرار دے دیا
کیمپ ڈیوڈ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور ایران ڈیل کے حوالے سے انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو اور کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے بالکل قریب تھا، تاہم پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی مداخلت اور مخلصانہ درخواست پر واشنگٹن نے اپنے قدم پیچھے ہٹائے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ وہی کچھ کرنے والے تھے جو ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا، لیکن ہم نے ایران کے خلاف کارروائی پاکستان کی درخواست پر روک دی۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم اور بہترین شخصیات ہیں، جن کے سفارتی کردار کا ہم احترام کرتے ہیں۔
ممکنہ امن معاہدے پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران اس وقت انتہائی کمزور پوزیشن میں مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے اور وہ ڈیل کے لیے بے تاب ہے، لیکن امریکہ ابھی تک مجوزہ فریم ورک سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوا اور ڈیل ابھی فائنل نہیں ہوئی۔
ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا یہ خیال تھا کہ وہ معاملے کو لٹکا کر مجھے تھکا دے گا، لیکن اب اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ یا تو ہماری شرائط پر معاہدہ ہوگا یا پھر ہمیں اپنا کام (فوجی کارروائی) مکمل کرنا ہوگا۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم ترک کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی دینے پر کوئی بات نہیں ہو رہی، اور میں اس بات پر بھی ہرگز مطمئن نہیں ہوں گا کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم روس یا چین کے حوالے کر دے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اب تک کی جھڑپوں کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تنازع میں امریکہ کی صرف 13 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ افغانستان اور عراق جیسی ماضی کی جنگوں میں ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
انٹرویو اور کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ساتھ امریکہ کے روایتی اتحادی ملک ‘سلطنتِ عمان’ کو بھی کڑی تنقید اور دھمکی کا نشانہ بنایا۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں عمان کا ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کنٹرول کرنا قبول ہے؟ تو انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، یہ عالمی پانیوں کا علاقہ ہے اور کوئی بھی ملک اس پر اپنا کنٹرول قائم نہیں کر سکتا۔ عمان کو بھی دیگر ممالک کی طرح بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سیدھا رویہ اختیار کرنا ہوگا، ورنہ اسے بھی تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔ اگر عمان نے آبنائے ہرمز پر ایران کا ساتھ دیا تو امریکہ کا ردِعمل انتہائی سخت ہوگا۔
ٹرمپ نے آخر میں کہا کہ جیسے ہی ایران کے ساتھ امریکی شرائط کے مطابق فریم ورک معاہدہ طے پا جائے گا، آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی کشتیوں اور کارگو کی نقل و حرکت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان نے ایک طرف جہاں پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی قد کو ثابت کیا ہے، وہیں دوسری طرف ایران ڈیل کے فائنل ہونے پر اب بھی غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

