ملک بھر میں ہزاروں مقامات پر نمازِ عید کے بڑے اجتماعات، سنتِ ابراہیمی کے تحت قربانی کا آغاز

اسلام آباد: ملک بھر میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے، عقیدت اور روایتی احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ فرزندانِ اسلام اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے لاکھوں قیمتی جانوروں کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔

صبح کا آغاز تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات کی مساجد، عید گاہوں، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید کے روح پرور اور بڑے اجتماعات سے ہوا، جہاں امتِ مسلمہ کے اتحاد اور وطنِ عزیز کی بقا کے لیے گڑگڑا کر دعائیں مانگی گئیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عید کا سب سے بڑا اور مرکزی اجتماع تاریخی شاہ فیصل مسجد میں ہوا، جہاں ہزاروں شہریوں نے نماز ادا کی۔

کراچی میں عید گاہوں، میدانوں اور مساجد میں اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں گرومندر پر واقع سبیل والی مسجد کا اہم اجتماع بھی شامل تھا جس کی امامت معروف عالمِ دین مولانا منیب الرحمن نے کی۔

لاہور میں دارالعلوم جامعہ نعیمیہ سمیت مختلف مقامات پر صبح سوا 5 بجے سے ہی نمازِ عید کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا، جبکہ پشاور میں مرکزی عید گاہ چارسدہ روڈ اور حیدرآباد میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر عید کے اجتماعات منعقد ہوئے۔

تمام اجتماعات کے اختتام پر علمائے کرام اور خطبا نے عیدالاضحیٰ کے فلسفے، ایثار اور قربانی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر افواجِ پاکستان، ملکی سلامتی، معاشی ترقی، خوشحالی اور بالخصوص فلسطین و مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی کے لیے خصوصی اور رقت آمیز دعائیں کی گئیں۔

نماز کے بعد شہریوں نے روایتی انداز میں ایک دوسرے کو گلے مل کر عید کی مبارکباد دی، جبکہ حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے قبرستانوں کا رخ کر کے اپنے پیاروں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں اسپیشل پولیس اور کیو آر ایف (QRF) ٹیمیں الرٹ ہیں۔ اکیلے لاہور شہر میں 11 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں، جبکہ بڑی مساجد پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب ہیں۔ ٹریفک کی روانی کے لیے 3 ہزار وارڈنز اور پٹرولنگ کے لیے ڈولفن و پیرو اسکواڈ کے 1500 جوان ڈیوٹی پر موجود ہیں۔ ضلع راولپنڈی کی 604 مساجد، 72 امام بارگاہوں اور 62 کھلے مقامات پر سکیورٹی کے سخت پہرے لگائے گئے ہیں۔

نمازِ عید کی ادائیگی کے فوری بعد ملک بھر میں گائے، بیل، اونٹ، دنبوں اور بکروں کی قربانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو تین روز تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب، عید کے موقع پر شہروں کو تعفن اور گندگی سے پاک رکھنے کے لیے ملک بھر کے میونسپل اداروں، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں، ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلز نے ہنگامی صفائی پلان ترتیب دے دیا ہے۔

قربانی کی آلائشوں، فضلے اور کچرے کو بروقت اٹھا کر شہروں سے دور مخصوص مقامات پر سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے ہزاروں سینٹری ورکرز اور بھاری مشینری فیلڈ میں متحرک کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں بھی عیدالاضحیٰ روایتی عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔