ایران ڈیل پر امریکی کابینہ کا کیمپ ڈیوڈ میں ہنگامی اجلاس طلب

کیمپ ڈیوڈ: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری و سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور ایک ممکنہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی ریزورٹ کیمپ ڈیوڈ میں اپنی کابینہ کا ایک غیر معمولی اور ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ اجلاس معمول کے برعکس وائٹ ہاؤس کے بجائے کیمپ ڈیوڈ کے پُرسکون اور محفوظ مقام پر بلایا گیا ہے تاکہ اعلیٰ حکام بغیر کسی سیاسی یا میڈیا دباؤ کے قومی سلامتی کے اس انتہائی حساس معاملے پر حتمی حکمتِ عملی طے کر سکیں۔

امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق، بظاہر اچانک بلائے گئے اس اہم ترین اجلاس میں عہدے سے سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ سمیت کابینہ کے تمام کلیدی ارکان شریک ہوں گے۔ کیمپ ڈیوڈ کا مقام تاریخی طور پر انتہائی حساس خارجہ پالیسیوں اور امن معاہدوں کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے، جیسے 1978 کا مشہور مصر-اسرائیل امن معاہدہ بھی اسی مقام پر طے پایا تھا۔

اجلاس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے ‘سی بی ایس نیوز’ (CBS News) کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے ’کافی قریب‘ پہنچ چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ زیرِ غور حتمی معاہدہ ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ’تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے‘۔ لیکن میں واضح کر دوں کہ میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں (امریکہ کو) وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں ایران کے سامنے ایک کڑی شرط رکھتے ہوئے کہا کہ تہران کو اپنی افزودہ یورینیم یا تو امریکہ کے حوالے کرنی ہوگی تاکہ اسے امریکہ لا کر تباہ کیا جا سکے، یا پھر ایران کے ساتھ رابطے میں رہ کر کسی اور قابلِ قبول مقام پر بین الاقوامی اٹامک انرجی کمیشن یا کسی متوازی ادارے کی نگرانی میں اسے تلف کرنا ہوگا۔

ٹرمپ کے اس بیان پر افریقا میں قائم ایرانی سفارت خانوں کی جانب سے انتہائی سخت اور جارحانہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔ گھانا میں متعین ایرانی سفارت خانے نے ٹرمپ کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کی افزودہ یورینیم اپنے گھر میں ہے اور وہ گھر میں ہی رہے گی جبکہ کینیا میں ایرانی سفارت خانے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اب تک نیوکلیئر ڈسٹ (ایٹمی وہم) کے تصورِ باطل میں مبتلا ہیں۔

مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود صدر ٹرمپ کو اپنی ہی ‘ریپبلکن پارٹی’ کے اندر سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ پارٹی کے کئی سخت گیر رہنماؤں اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ڈیل میں واشنگٹن تہران کے ساتھ ضرورت سے زیادہ نرمی دکھا رہا ہے۔

ان ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں اور عسکری دباؤ کو برقرار رکھا جانا چاہیے اور کسی بھی نئی ڈیل میں ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے علاقائی کردار پر مزید سخت ترین شرائط عائد کی جانی چاہئیں۔

کیمپ ڈیوڈ کا یہ اجلاس اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا ٹرمپ اپنی پارٹی کے دباؤ میں آتے ہیں یا ایران کے ساتھ اس تاریخی ڈیل پر دستخط کر کے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا باقاعدہ خاتمہ کرتے ہیں۔