منیٰ: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مناسکِ حج کے پہلے مرحلے کے دوران خیموں کے شہر منیٰ میں قائم پاکستانی حجاج کرام کے مختلف کیمپس کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد پاکستانی عازمینِ حج کو فراہم کردہ رہائشی، سفری اور طعام کی سہولیات کا موقع پر جائزہ لینا اور ان کے مسائل کو براہِ راست سننا تھا۔
کیمپس کے دورے کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ نے عام حجاج کرام، بالخصوص بزرگ عازمینِ حج سے ان کی نشستوں پر جا کر ملاقاتیں کیں اور ان سے انتظامات، خیموں کی صورتحال اور کھانے پینے کے معیار کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر محسن نقوی نے خصوصی طور پر ایک 100 سالہ پاکستانی بزرگ حاجی سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور اس عمر میں بھی حج کا فریضہ ادا کرنے پر ان کے غیر معمولی جذبے اور ہمت کو دل کھول کر سراہا۔
گفتگو کے دوران عازمینِ حج کی اکثریت نے اس سال کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں سہولیات بہتر ہیں۔ بعض حجاج نے مکہ سے منیٰ آمد کے دوران پیش آنے والے چند جزوی مسائل کا ذکر بھی کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حج عملے نے فوری طور پر ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔
وزیرِ داخلہ نے حجاج کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے آنے والا ایک ایک حاجی ہمارے لیے انتہائی معزز اور خاص ہے۔ آپ کے آرام اور آسانی کے لیے حج مشن کا عملہ ہر وقت فیلڈ میں موجود ہے۔ میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ان کی پوری ٹیم کی دن رات کی محنت کو سراہتا ہوں جنہوں نے عازمین کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔
محسن نقوی نے پاکستان میں ہی حجاج کرام کی امیگریشن کی سہولت فراہم کرنے پر سعودی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ‘روڈ ٹو مکہ’ انیشی ایٹو کے تحت پاکستانی حجاج کو ایئرپورٹ پر جو سفری آسانیاں ملی ہیں، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے ان بہترین انتظامات پر سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی وزارتِ حج کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

