امریکا کو اب خطے میں شرارتوں اور فوجی اڈوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں ہوگی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای

تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ 14 نکاتی فریم ورک کی منظوری کے بدلے پاکستان اور سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کو اسرائیل تسلیم کرنے (ابراہیمی معاہدے) کے مطالبے کے بعد، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتہائی سخت اور کھلا مؤقف سامنے آ گیا ہے۔

حج کے مقدس اور تاریخی موقع پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام اپنے خصوصی پیغام میں ایرانی سپریم لیڈر نے واشنگٹن اور تل ابیب کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارح امریکا اب خطے میں اپنی سابقہ حیثیت اور رعب تیزی سے کھو رہا ہے۔

اپنے پیغام میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران اور امریکا کے مابین حالیہ عسکری ٹکراؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے جارح اور مغرور امریکا کو ایسا سخت تھپڑ رسید کیا ہے کہ دشمن کے تمام تر گھناؤنے اہداف خاک میں مل گئے ہیں۔ اب وہ وقت گزر گیا جب امریکا خطے میں اپنی مرضی کرتا تھا، اب ‘برائی’ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں بچی اور امریکی فوجی اڈے اب شدید غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی غیور اقوام اور ممالک اب اپنی سرزمین کو امریکی اڈوں کی حفاظت کے لیے بطور ‘ڈھال’ استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ واضح رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے ان علاقائی ممالک پر شدید تنقید کی تھی جنہوں نے امریکی افواج کو اپنے اڈے استعمال کرنے دیے تھے، جس کے بعد ان اڈوں کو نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں "اللہ اکبر” کے نعرے کو مسلمانوں کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی طاقت نے امتِ مسلمہ اور مزاحمتی محاذ (Resistance Front) کے مجاہد نوجوانوں کے درمیان تعلقات کو فولادی بنایا ہے۔

انہوں نے اس اتحاد کا دائرہ کار بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی اور انقلابی اتحاد ایران سے شروع ہو کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک، جبکہ افریقا اور یمن سے ہوتا ہوا پاکستان اور دنیا کی تمام آزاد پسند قوموں تک پھیل چکا ہے۔ اب امریکا کو خطے میں مزید نئے فوجی اڈے قائم کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا کیونکہ مستقبل صرف امتِ مسلمہ اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے۔

اسرائیل اور امریکا کے گٹھ جوڑ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ متزلزل صیہونی حکومت اور اسرائیل اپنی عمر کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ان کا زوال اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

ترقی اور خوشحالی کے لیے انہوں نے تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ مغربی بیساکھیوں پر تکیہ کرنے کے بجائے آپس میں دوستی، تزویراتی تعاون اور بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط بنائیں۔

یاد رہے کہ امریکی میڈیا نے حال ہی میں رپورٹس دی تھیں کہ ایرانی سپریم لیڈر عارضۂ قلب کے بعد اب تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں، اور صحت یابی کے بعد ان کا یہ پہلا بڑا جیو پولیٹیکل بیان ہے جس نے خطے کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔