میدانِ عرفات: مناسکِ حج کے سب سے اہم اور رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفہ’ کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں جمع ہو گئے ہیں، جہاں مسجدِ نمرہ سے امام مسجدِ نبوی ﷺ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے اس سال کا تاریخی خطبۂ حج دیا۔ لاکھوں حجاج کرام نے انتہائی رقت آمیز اور روحانی ماحول میں خطبۂ حج سماعت کیا، جس کے بعد مسجدِ نمرہ میں نمازِ ظہر اور عصر قصر کر کے ایک ساتھ ادا کی گئیں۔
امام مسجدِ نبوی ﷺ نے خطبۂ حج کا آغاز اللہ کی حمد و ثناء اور حضورِ اکرم ﷺ پر درود و سلام سے کیا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ اور توحید پر سختی سے کاربند رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اے ایمان والو! اپنے رب کے سوا کسی غیر کی عبادت مت کرو، صرف اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو۔
تمام گناہ چھوڑ کر قیامت کے دن کی تیاری کی جائے کیونکہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے اور اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی فرضی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں۔
شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے مسلمانوں کو مصائب میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو کسی بھی مشکل میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔
انہوں نے امت کو نعمتوں پر شکر گزاری کی اہمیت یاد دلاتے ہوئے خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے ظلم کیا، سرکشی کی اور ناشکری کا راستہ اپنایا، ان سے اللہ کی نعمتیں چھین لی گئیں ہمیشہ کے لیے چھین لی گئیں۔
امامِ عالی مقام نے حجاج کو تاکید کی کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں، جھوٹ اور غلط بیانی سے مکمل گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) کا احترام کرتا ہے، یہ اس کے دل کے تقویٰ کی نشانی ہے۔ دنیا بھر سے مختلف رنگوں، نسلوں اور زبانوں کے لوگوں کا یہاں یکجا ہونا اللہ کی قدرت کا ایک بڑا مظہر ہے اور اللہ تعالیٰ اس وقت فرشتوں کے سامنے اپنے حاجیوں پر فخر فرما رہا ہے۔
خطبۂ حج میں خاص طور پر امن اور اتحاد پر زور دیا گیا۔ الشیخ علی الحذیفی نے حجاج کو ہدایت کی کہ حج کے دوران کسی قسم کے لڑائی جھگڑے، بحث و تکرار اور گناہوں سے سخت اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسے عمل یا طرزِ عمل سے دور رہیں جس سے مسلمانوں کی یکجہتی اور وحدت کو نقصان پہنچے۔ عازمینِ حج اپنے مناسک کو بہترین انداز میں ادا کریں، کیونکہ حج اللہ کے سامنے مکمل جھک جانے اور نبی کریم ﷺ کی کامل پیروی کا نام ہے۔
خطبے کے آخر میں امامِ عالی مقام نے مسلم دنیا کے مسائل کے حل، امن اور یکجہتی کے لیے خصوصی اور رقت آمیز دعائیں کروائیں۔ انہوں نے دعا کی: "یا اللہ! مسلمانوں کے حالات پر رحم فرما، ان کے حالات بہتر کر دے اور انہیں آپس میں یکجہتی عطا فرما۔ یا اللہ! تمام عازمینِ حج کو بحفاظت اور سلامتی کے ساتھ ان کے گھروں کو لوٹا، ان کے گناہوں کو معاف فرما اور ان کی عبادات قبول فرما۔”
واضح رہے کہ میدانِ عرفات میں قیام اور غروبِ آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں گے اور رات کھلے آسمان تلے قیام کریں گے۔

