صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران ڈیل کے ساتھ ہی پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو ‘ابراہیمی معاہدے’ میں شامل ہونے کا مشورہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ممکنہ تاریخی معاہدے کے تناظر میں ایک بڑا سفارتی دھماکہ کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت خطے کے تمام اہم اسلامی ممالک کے سامنے بڑی شرط رکھ دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مجوزہ امن معاہدے کے ساتھ ہی ان تمام مسلم ممالک کو بیک وقت "ابراہیمی معاہدے” (Abraham Accords) کا حصہ بن کر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لینے چاہئیں۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر جاری ایک طویل اور تفصیلی بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک ڈیل کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں۔

تاہم انہوں نے اوباما دور کے جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یا تو ایک بہترین اور جامع معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ اگر یہ معاہدہ نہ ہوا تو خطے میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہوگی۔ چونکہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اس لیے امریکہ اس پیچیدہ سفارتی پہیلی کو حل کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز خطے کے تمام اہم رہنماؤں سے تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی، جن میں پاکستان کے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، یو اے ای کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ شامل ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے تمام مسلم رہنماؤں پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کی ان تمام تر امن کوششوں کے بعد اب یہ لازم ہونا چاہیے کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن فوری طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ (یاد رہے کہ یو اے ای اور بحرین ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت یعنی 2020 میں ہی اس کا حصہ بن چکے ہیں)۔

ٹرمپ نے بالخصوص سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں ایران کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ڈیل کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس صورت میں ان کا انکار ‘بری نیت’ کی علامت سمجھا جائے گا۔”

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ مذکورہ مسلم رہنماؤں سے گفتگو کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جیسے ہی امریکہ اور ایران کا معاہدہ طے پاتا ہے، تو اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل کیا جائے گا اور ایرانی قیادت اسے اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھے گی۔ ٹرمپ کے مطابق اگر ایسا ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ دنیا کا سب سے زیادہ متحد، معاشی طور پر مضبوط اور طاقتور خطہ بن جائے گا۔

امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ فوری طور پر ان تمام ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کے عمل کا آغاز کریں۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نااہل سیاستدان اس ڈیل کو غلط رنگ دے رہے ہیں، جبکہ وہ خود اس کی تفصیلات سے ناواقف ہیں۔