مناسکِ حج کا آغاز؛ 18 لاکھ عازمینِ حج خیموں کے شہر منیٰ پہنچ گئے، لبیک الہم لبیک کی صدائیں، کل حج کا رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفہ’ ادا کیا جائے گا
منیٰ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج نے روحانی ماحول اور "لبیک الہم لبیک” کی ایمان افروز صداؤں کے گونجتے ہوئے مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں بیرونِ ملک اور مقامی سطح سے آئے ہوئے تقریباً 18 لاکھ عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے خیموں کے شہر منیٰ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔
تمام عازمینِ حج پیر کی رات منیٰ کے خیموں میں ذکر و اذکار اور عبادات میں گزاریں گے۔ اس کے بعد، منگل 9 ذی الحج کو نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام حج کے سب سے اہم اور رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفہ’ کے لیے میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوں گے۔ میدانِ عرفات میں 16 لاکھ سے زائد عازمینِ حج جمع ہو کر خطبۂ حج سنیں گے، جو اس بار اردو، پنجابی اور پشتو سمیت دنیا کی 35 زبانوں میں نشر کرنے کا خصوصی فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سعودی محکمہ موسمیات نے عازمین کے لیے شدید گرمی کا الرٹ جاری کیا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق، حج کے ان دنوں میں مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات پر شدید گرمی کی لہر برقرار رہے گی، جہاں درجہ حرارت 45 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد رہنے اور بعض مقامات پر گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
مقدس مقامات پر شدید گرم موسم کے پیشِ نظر سعودی حکومت نے عازمینِ حج کو راحت پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے جدید کولنگ فینز اور مسٹ فینز لگائے گئے ہیں تاکہ ماحول کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ حجاج کو دھوپ سے بچانے کے لیے سایہ دار جگہوں، خصوصی شیڈز اور بڑے پیمانے پر درختوں کی شجرکاری کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے اور میدانِ عرفات میں عازمین کی پیدل آمد و رفت کے لیے ایسے لچکدار مٹیریل سے راہدایاں بنائی گئی ہیں جن پر چلنے سے پاؤں کی تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔
سعودی حکام اور طبی ماہرین نے تمام عازمینِ حج سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، اپنے پاس ہر وقت چھتری رکھیں، زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی اور او آر ایس (ORS) کا استعمال کریں اور انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

