سیالکوٹ: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ ایک مثبت اور بڑے نتیجے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کی سفارتی اور عسکری کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور دنیا ایک بہت بڑے بحران سے بچنے والی ہے۔
خواجہ آصف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورۂ ایران کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کا ایران جانا بذاتِ خود ایک بڑا اشارہ ہے کہ معاملہ کسی منطقی حل اور حتمی معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے کامیاب ہوں گی۔
وزیر دفاع نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جاری علاقائی جنگ اور کشیدگی نے پاکستان کی معیشت کو براہِ راست نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حالات کی وجہ سے ملک میں معاشی ریکوری کا عمل نہ صرف رک گیا بلکہ "ریورس” (Reverse) ہوا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا پورا احساس ہے کہ محدود وسائل والے طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے انکار ممکن نہیں، محدود وسائل والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اگر یہ امن قائم ہو جاتا ہے تو اس سے ہمیں بڑی آسانی ہوگی اور معیشت پر پڑنے والے برے اثرات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ ہماری دعا ہے کہ پاکستان اور پوری دنیا میں جلد امن قائم ہو۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا بھی امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ 24 گھنٹوں میں ایک بڑے امن معاہدے کی پیش گوئی کر رہا ہے۔

