فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں، بنیادی ثالث کے طور پر ان کا کردار قابلِ ستائش ہے: مارکو روبیو

واشنگٹن: دنیا کی نظریں اس وقت تہران اور واشنگٹن پر جمی ہیں جہاں پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

اس انتہائی نازک اور اہم موڑ پر پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ معاہدے کی آخری کڑیوں کو حتمی شکل دیں گے۔

سویڈن میں نیٹو اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ وہ اس پورے عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ‘بنیادی ثالث’ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستانی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار قابلِ ستائش ہے، جن کی بدولت مذاکرات میں امید افزا پیشرفت ہوئی ہے۔

سعودی نشریاتی ادارے ‘العربیہ’ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا 9 نکاتی مسودہ دونوں ممالک کی میز پر ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • فوری جنگ بندی: معاہدے پر دستخط ہوتے ہی زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر ہر قسم کی عسکری کارروائیاں فوری روک دی جائیں گی۔
  • تحفظ کی ضمانت: فریقین ایک دوسرے کی فوجی، سول اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔
  • جہاز رانی کی آزادی: آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو کھلا رکھا جائے گا۔
  • پراکسی اور میڈیا وار کا خاتمہ: دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور پراکسی گروپوں کی حمایت روکنے پر غور کریں گے۔
  • اقتصادی ریلیف: ایران کی جانب سے شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکہ بتدریج اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔

اگرچہ معاہدے کا مسودہ تیار ہے، تاہم مارکو روبیو نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام، یورینیئم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کی تجاویز جیسے پیچیدہ معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے معاہدے کے امکانات کو 50 فیصد قرار دیتے ہوئے اسے خطے کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ ایران اس لحاظ سے کلیدی ہے کہ وہ تہران میں ایرانی قیادت کو اس مسودے پر آمادہ کرنے اور اس پر عمل درآمد کی ضمانتوں پر بات کریں گے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں کسی بھی وقت اس تاریخی معاہدے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک طویل باب کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔