صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے اثرات؛ بیجنگ نے ایران کی حمایت میں ’احتیاط‘ برتنا شروع کر دی، امریکی مندوب مائیکل والٹز کا دعویٰ
نیویارک: اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیکل والٹز نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ بیجنگ کے بعد چین نے ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعاون اور کھلی حمایت میں نمایاں طور پر ’احتیاط‘ برتنا شروع کر دی ہے۔
مائیکل والٹز کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے مضبوط سفارتی اور معاشی روابط نے بیجنگ کو اپنی علاقائی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران امریکی مندوب نے انکشاف کیا کہ چین نے ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور سب سے اہم بات، عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر کسی بھی قسم کا ٹول ٹیکس یا رکاوٹ نہ لگانے کے معاملے پر اتفاق کر لیا ہے۔
مائیکل والٹز کا کہنا تھا کہ چین اب خطے میں اپنے وسیع تجارتی اور توانائی کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے زیادہ محتاط حکمتِ عملی اپنا رہا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ایران کی بے جا حمایت اس کے دیگر خلیجی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ میں چین کے سفیر نے مائیکل والٹز کے دعوؤں کے برعکس آبنائے ہرمز سے متعلق سلامتی کونسل میں پیش کی گئی امریکی قرارداد پر کڑی تنقید کی ہے۔
چینی سفیر کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کا متن اور وقت دونوں ہی مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریقوں (امریکہ اور ایران) کو سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات پر آمادہ کیا جائے، ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ قرارداد منظور کرنا امن کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔
اگرچہ ابھی تک بیجنگ یا تہران کی جانب سے مائیکل والٹز کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اپنی "خاموش سفارت کاری” کے ذریعے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، بیجنگ اب بھی تہران کے ساتھ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں گہرے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن وہ امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ اور خلیج میں براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے اپنی پالیسی میں لچک پیدا کر سکتا ہے۔
