تائیوان چین کا اٹوٹ انگ، ‘ون چائنا پالیسی’ پر قائم ہیں؛ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی کی پریس بریفنگ
اسلام آباد: پاکستان نے تائیوان سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور پاکستان ‘ون چائنا پالیسی’ کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے واضح الفاظ میں کہا کہ "ہم دنیا میں صرف ایک ہی چین ہونے پر یقین رکھتے ہیں”۔
ترجمان نے میڈیا کے ایک حصے میں آنے والی ان رپورٹس کو یکسر مسترد اور غلط قرار دیا جن میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کی پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ حالیہ گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا بالکل غلط ہے کہ چین نے پاکستان پر ثالثی کی کوششیں بڑھانے یا ‘ڈو مور’ کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے ریکارڈ پر لاتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان روایتی گرمجوشی اور مکمل ہم آہنگی کے ماحول میں تعثراتی گفتگو ہوئی ہے۔
امریکی میڈیا ‘سی بی ایس نیوز’ کی اس رپورٹ کو پاکستان نے باقاعدہ مسترد کر دیا ہے جس میں ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ رپورٹ بے بنیاد ہے اور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا بیان بھی اسی غلط کوریج کا نتیجہ تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسافر جہاز کی آمد کا ایسی من گھڑت خبروں سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن عمل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس عمل میں مثبت طور پر شامل (Engage) ہے اور جنگ بندی کے لیے پرامید ہے۔
بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ افغان ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) دیا گیا ہے۔ لائن آف کنٹرول (LoC) کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ کشتواڑ اور ایل او سی کے واقعات کے انسانی حقوق اور سیکیورٹی کے دو مختلف زاویے ہیں اور ہمارے جوان سرحدوں پر مکمل چوکس ہیں۔
دیگر امور پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے یو اے ای سے پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشن کی خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیا اور کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات ہماری طویل مدتی پالیسی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے دورۂ روس کا حتمی اعلان مناسب وقت پر ہوگا جبکہ دورہ چین کی تاریخیں فائنل ہوتے ہی پبلک کر دی جائیں گی۔ بھارت میں مذاکرات کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو انہوں نے ایک بار پھر مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نئی دہلی سرکار کے باضابطہ ردِعمل کا منتظر ہے۔

