ایران معاملہ بغیر میزائل فائر کیے حل کیا تھا؛ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید

واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور حالیہ جنگی صورتحال پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ایران کا معاملہ ایک بھی میزائل فائر کیے بغیر کامیابی سے انجام دے دیا تھا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں اوباما نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ایران سے 97 فیصد افزودہ یورینیم نکلوانے میں کامیابی حاصل کی تھی اور یہ تمام عمل انتہائی خوش اسلوبی سے مکمل ہوا تھا۔

اوباما کا کہنا تھا کہ اس وقت نہ تو بڑے پیمانے پر خونریزی کی ضرورت پڑی، نہ ہزاروں لوگوں کو قتل کرنا پڑا اور نہ ہی عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی نوبت آئی۔

سابق صدر نے ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی شروع کردہ ایران جنگ اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ ان کے دور میں تہران کے ساتھ معاملہ فوجی کارروائی کے بغیر طے پایا تھا جس سے خطے میں استحکام رہا۔

باراک اوباما کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے ان پر کیے گئے حالیہ حملوں کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر اوباما دور کی ایران پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اوباما کو ایک "کمزور اور نادان” صدر قرار دیا تھا جس نے تہران کو مالی اور عسکری طور پر مضبوط ہونے کا موقع دیا۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ اوباما نے ایران کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا سنہرا موقع فراہم کیا اور تہران کو طیاروں کے ذریعے 1.7 ارب ڈالر نقد رقم سمیت سینکڑوں ارب ڈالر بھیجے، جس نے ایرانی حکومت کو غیر معمولی استحکام بخشا۔

ٹرمپ کے مطابق اوباما ایران کے لیے انتہائی نرم گوشہ رکھتے تھے جس کی وجہ سے ایران نے امریکہ کو ایک آسان شکار سمجھا۔

تاہم، باراک اوباما نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج دیرپا تھے جبکہ موجودہ کشیدگی نے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔