نیتن یاہو کے خفیہ دورے کے دعوے بے بنیاد ہیں؛ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم کی آمد کی سختی سے تردید کر دی

ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے ایران جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے اور اماراتی صدر سے ملاقات کی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

اماراتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے یہ دعوے سراسر بے بنیاد ہیں کہ نیتن یاہو نے کسی اسرائیلی فوجی وفد کے ہمراہ یو اے ای کا غیراعلانیہ دورہ کیا ہے۔

اماراتی حکام نے واضح کیا کہ ریاست میں ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو یا کسی بھی اسرائیلی عسکری وفد کا استقبال نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبریں محض افواہیں ہیں۔

اماراتی وزارتِ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات ابراہیمی معاہدے (ابراہام کارڈز) کے تحت طے شدہ، کھلے اور واضح ہیں، جن میں کسی قسم کی رازداری یا غیر شفافیت کی گنجائش نہیں ہے۔

بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تعلقات علانیہ طور پر قائم ہیں تو کسی بھی خفیہ ملاقات یا غیر اعلانیہ دورے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے جنگ کے دوران یو اے ای کا تاریخی دورہ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے روابط میں ایک نیا سنگ میل طے ہوا ہے، تاہم اماراتی حکومت نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے میڈیا اداروں اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں پر زور دیا ہے کہ وہ خبروں کی اشاعت میں پیشہ ورانہ ذمہ داری اور درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کو مخصوص سیاسی تاثر پیدا کرنے یا گمراہ کن بیانیے پھیلانے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے آئرن ڈوم دفاعی نظام کی فراہمی اور موساد کے سربراہ کے دوروں سے متعلق بھی دعوے کیے گئے تھے، مگر متحدہ عرب امارات نے ان تمام تر رپورٹس کو حقیقت سے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔