ایران جنگ بندی مذاکرات میں پاکستان کا کلیدی کردار؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو شاندار قرار دے دیا
بیجنگ: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور جنگ بندی کے لیے پاکستان نے بطور واحد ثالث اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کو ایک "شاندار ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے بہترین اور پیشہ ورانہ کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے قریبی ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کے غیر جانبدارانہ کردار پر سوال اٹھائے تھے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان سے سینیٹر گراہم کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل قطری وزیراعظم بھی واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان اس وقت ثالث کا کردار بہترین انداز میں ادا کر رہا ہے اور اس معاملے میں کسی تیسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے بھی پاکستان کی ان کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے اور فریقین کے درمیان ٹیلیفونک رابطوں اور وفود کے تبادلوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
پاکستان کی اس اعلیٰ پائے کی سفارت کاری نے اسے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر ایک ممتاز مقام عطا کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی بارہا تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کی حکمتِ عملی کو تسلیم کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی یہ ثالثی کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔

