قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان آپس میں گتھم گتھا؛ اقبال آفریدی اور جنید اکبر کے درمیان ہاتھا پائی، ایوان میں جوتے اور گالیاں چل گئیں
اسلام آباد: قومی اسمبلی کا ایوان اس وقت مچھلی منڈی بن گیا جب پاکستان تحریک انصاف کے دو اہم ارکان اسمبلی، اقبال آفریدی اور جنید اکبر، ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔
بدھ کے روز ہونے والے اجلاس کے دوران جب وزیر دفاع خواجہ آصف تقریر کر رہے تھے، تو اقبال آفریدی بار بار مداخلت کر رہے تھے اور انہوں نے کورم کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی۔
اسی دوران ان کی اپنی ہی پارٹی کے ساتھی جنید اکبر نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کورم کی نشاندہی سے روکنا چاہا، جس پر اقبال آفریدی سیخ پا ہو گئے اور دونوں کے درمیان شدید تلخ کلامی شروع ہو گئی۔
ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد ایوان کے اندر ہنگامہ آرائی مزید بڑھ گئی اور دونوں ارکان ایک دوسرے کی جانب لپکے۔
عینی شاہدین کے مطابق اقبال آفریدی اور جنید اکبر نے ایک دوسرے کا گریبان پکڑا اور نازیبا زبان کا استعمال کیا۔ اسی ہنگامے کے دوران پی ٹی آئی کے ایک اور رکن سلیم الرحمان کو غصے میں اپنا جوتا اتارتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ ایک تھپڑ بھی ہوا میں لہرایا گیا مگر یہ تصدیق نہ ہو سکی کہ وہ کسی کو لگا یا نہیں۔
اقبال آفریدی اس دوران اپنی پارٹی کے دیگر ارکان سے بھی الجھتے رہے اور ایوان میں شدید بدنظمی پیدا ہو گئی۔
صورتحال اس وقت قابو میں آئی جب پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ اور دیگر ساتھیوں نے مداخلت کی اور جنید اکبر کو زبردستی پکڑ کر ایوان سے باہر لے گئے، جبکہ دوسری جانب ارکان نے اقبال آفریدی کو پکڑ کر الگ کیا۔
پی ٹی آئی کے ارکان کی آپس میں اس گتھم گتھا اور گریبان پکڑنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اسے پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نظم و ضبط کی کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایوان کی کارروائی ختم ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک لابی میں تناؤ کی کیفیت برقرار رہی۔

