افغانستان ہندوتوا کی پراکسی بن چکا، کابل اور دہلی میں کوئی فرق نہیں؛ وزیر دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور واضح کیا ہے کہ اس وقت کابل حکومت ہندوتوا کی پراکسی بن چکی ہے، جس کی وجہ سے دہلی اور کابل میں اب کوئی تفریق باقی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پوری دیانتداری کے ساتھ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کے ذریعے کابل کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرے، لیکن افغان حکومت کسی قسم کے تحریری تعاون کے لیے تیار نہیں ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اس وقت ایک ہی دشمن بیٹھا ہے اور اب پاکستان کے خلاف جنگ کابل حکومت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے دہشت گردی کا سدباب ہو، لیکن اگر افغانستان اس کے لیے تیار نہیں ہے تو پھر ‘تنگ آمد بہ جنگ آمد’ کے مصداق وہی ہوگا جو بھارت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت معرکہ حق میں شکست کے بعد اب براہِ راست تصادم کی جرات نہیں رکھتا، اسی لیے وہ افغان سرزمین کو سہولت کاری کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی ایک صوبے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان اور ملک کی بقا کی جنگ ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج بلتستان سے لے کر گوادر تک ملک کے دفاع کے لیے شہادتیں دے رہی ہیں، جن کی شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے۔
وزیر دفاع نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ اب خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کے ساتھ ایک صفحے پر ہے، تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ ماضی قریب میں صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون میسر نہیں تھا۔
انہوں نے ایوان پر زور دیا کہ اس حساس معاملے پر صوبائیت کے بجائے قومی سلامتی کو مقدم رکھا جائے۔

