"متحدہ عرب امارات کے ایران پر خفیہ حملے”؛ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کا ہوش ربا دعویٰ، ایران کی جوابی کارروائی سے یو اے ای معیشت کو شدید نقصان
واشنگٹن: امریکی جریدے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران خفیہ طور پر ایران کے اندر متعدد حملے کیے۔
رپورٹ کے مطابق، یو اے ای نے اپریل کے اوائل میں ایران کے لاوان جزیرے پر واقع ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کی تیاری کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق، واشنگٹن نے خاموشی سے اس جنگ میں یو اے ای کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ تاہم، ان خفیہ حملوں کے جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے شدید جوابی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر کیے، جن کی تعداد تقریباً 2800 بتائی گئی ہے۔ یہ تعداد اسرائیل پر کیے گئے ایرانی حملوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں یو اے ای کی معیشت کو غیر معمولی نقصان پہنچا، بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیاں ہوئیں اور ملک کو اپنی سیکیورٹی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلیاں کرنا پڑیں۔
اگرچہ یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ان مخصوص حملوں پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم یہ ضرور کہا کہ امارات کو اپنی سلامتی کے دفاع میں جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔

