"ایرانی تجویز احمقانہ اور ناقابلِ قبول ہے”؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ‘لائف سپورٹ’ پر ہونے کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ جنگ بندی کی تجویز کو "احمقانہ اور ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے نظر نہیں آ رہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو اور ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری بیانات میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ معاہدہ "لائف سپورٹ” پر ہے اور کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما اور موجودہ صدر بائیڈن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما دور میں ایران کے ساتھ کی گئی ڈیل ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی، جس نے ایران کو اربوں ڈالر نقد فراہم کر کے مضبوط کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک بار پھر امریکا پر ہنسنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اب ایسا مزید نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ ایران نے اپنی نئی تجویز میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کی دوٹوک یقین دہانی نہیں کرائی، جو امریکا کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی "وینزویلا ماڈل” کی طرح ایک شاندار فوجی منصوبہ ہے اور وہ ایران پر مکمل فتح حاصل کریں گے۔
انہوں نے کردوں کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انہیں ایران میں کارروائی کے لیے ہتھیار دیے لیکن انہوں نے وہ اپنے پاس رکھ لیے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اپنے دورہ چین کے دوران صدر شی جن پنگ سے آبنائے ہرمز کے بحران، تائیوان اور روس کے امور پر تفصیلی بات کریں گے کیونکہ چین اس مسئلے کے حل میں دلچسپی رکھتا ہے۔

