اسرائیل کا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے عراقی صحرا میں ‘خفیہ فوجی اڈہ’؛ وال اسٹریٹ جرنل کا سنسنی خیز دعویٰ

واشنگٹن: امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کو منظم کرنے کے لیے عراق کے ایک دور افتادہ صحرائی علاقے میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ اڈہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کر رہا تھا۔ یہاں نہ صرف اسرائیلی اسپیشل فورسز تعینات تھیں، بلکہ ‘سرچ اینڈ ریسکیو’ ٹیمیں بھی موجود تھیں جن کا مقصد ایران کے خلاف مشن پر موجود کسی بھی اسرائیلی پائلٹ یا طیارے کے گرنے کی صورت میں فوری امداد فراہم کرنا تھا۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ مارچ کے آغاز میں عراقی سکیورٹی فورسز انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جب اس مشکوک مقام کے قریب پہنچیں، تو اسرائیلی فورسز نے اڈے کا راز فاش ہونے سے بچانے کے لیے عراقی اہلکاروں پر مبینہ طور پر فضائی حملے کیے تاکہ انہیں دور رکھا جا سکے۔ اس سنگین واقعے کے خلاف عراق نے مارچ کے آخر میں اقوام متحدہ میں ایک باضابطہ درخواست بھی جمع کرائی تھی۔

اگرچہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خفیہ اڈے کی موجودگی سے خطے میں جاری کشیدگی، بالخصوص آبنائے ہرمز کے تنازع میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اس رپورٹ کی فی الحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔