"یوکرین تنازع اپنے منطقی انجام کے قریب ہے”؛ روسی صدر پیوٹن کا جنگ کے خاتمے کا اشارہ

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین تنازع اب اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے قوی امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔

ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب یہ خالصتاً روس اور یوکرین کا باہمی معاملہ ہے جس کا حل دونوں کو خود نکالنا ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 9، 10 اور 11 مئی کے لیے 3 روزہ عارضی جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

اس جنگ بندی کا مقصد دونوں ممالک میں ‘یومِ فتح’ کی تقریبات کا انعقاد ہے، جبکہ اس دوران دونوں جانب سے ایک ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

صدر پیوٹن نے مزید انکشاف کیا کہ سلوواکیہ کے وزیراعظم کے مطابق یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی ان سے براہِ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ٹھوس امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ کسی تیسرے ملک میں زیلنسکی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے ایران-امریکہ کشیدگی کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی اور بتایا کہ روس اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے (تیل اور گیس) میں ایک بہت بڑا اسٹریٹجک معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔