اسلام آباد: پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب حکومتِ پاکستان کو موصول کروا دیا ہے۔
اس اہم پیش رفت کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ‘یومِ معرکہ حق’ کی تقریب سے خطاب کے دوران کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انہیں ایران کی جانب سے جواب موصول ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ محض عارضی جنگ بندی کے بجائے "جنگ کے مستقل خاتمے” پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات کے بعد نئی ہدایات جاری کی ہیں، جس میں دفاعی تیاریوں اور سفارتی مذاکرات کے توازن کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں امریکی تنصیبات محفوظ نہیں رہیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ 14 نکاتی منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 سال تک یورینیم افزودگی روکے اور اپنا 60 فیصد افزودہ یورینیم حوالے کرے۔
اس کے بدلے امریکہ ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں جاری ہیں، جو گزشتہ چار دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے براہِ راست رابطے ہیں۔

