انسدادِ دہشت گردی میں پاک-امریکا تعاون؛ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف کر دی

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے جاری کردہ سالانہ انسدادِ دہشت گردی رپورٹ 2026 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے ہولناک ‘ایبی گیٹ’ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو پاکستان نے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے اس حملے کے مرکزی کردار کو محض 43 دن کے اندر گرفتار کیا گیا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کا باضابطہ شکریہ بھی ادا کیا۔

رپورٹ میں افغانستان کو اب بھی دہشت گردی کے خطرات کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا گیا ہے اور طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی مبینہ پشت پناہی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکا نے واضح کیا ہے کہ القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر امریکہ مخالف گروہوں کے پاس اب بھی بیرونی حملوں کی صلاحیت موجود ہے، جسے روکنے کے لیے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔

امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے شراکت دار ممالک کی مدد میں اضافہ کریں گے تاکہ ان سنگین خطرات کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔

رپورٹ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ عالمی امن کو نقصان پہنچانے والے گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔