واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امن مذاکرات آگے نہیں بڑھتے تو ایران کے خلاف ایک نیا اور بڑا فوجی آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فی الحال آپریشن ‘پروجیکٹ فریڈم’ کو موقوف کر رہے ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں اس کا نیا ورژن ‘پروجیکٹ فریڈم پلس’ شروع کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امریکہ سے ‘پروجیکٹ فریڈم’ نہ کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے دباؤ نے بھی اس آپریشن کو فی الحال روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ "ایران کی فوج ختم ہو چکی ہے” اور اب وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تہران امریکی تجاویز پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز پر جواب آج ہی متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ ایران سنجیدہ مذاکرات کی طرف آئے گا۔
ایران کے علاوہ صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست پر بھی گفتگو کی اور روس یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مستقل امن میں بدلنے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عراق میں ان کا حمایت یافتہ وزیراعظم منتخب ہو چکا ہے اور امریکہ اب جرمنی اور پولینڈ سے مزید فوجیں واپس بلا رہا ہے۔

