پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی؛ آسٹریلیا نے بھی کالعدم بی ایل اے اور اس کی قیادت پر سخت پابندیاں عائد کر دیں
اسلام آباد: عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کی ایک اور بڑی تائید سامنے آئی ہے، آسٹریلیا نے کالعدم دہشت گرد جتھے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے تین سینئر رہنماؤں پر سخت مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ تنظیم پاکستان میں شہریوں، غیر ملکیوں اور اہم ریاستی تنصیبات پر گھناؤنے حملوں میں ملوث ہے۔
آسٹریلوی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا ہے تاکہ ان کے لیے نئی بھرتیاں کرنا اور انتہا پسند نظریات پھیلانا ناممکن بنایا جا سکے۔
آسٹریلیا نے خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیم کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم ہوگا، جس کی سزا 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ بی ایل اے پر مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ سمیت کئی بڑے حملوں کا الزام ہے، جہاں 400 مسافروں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
امریکہ پہلے ہی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں بھی اسے عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ زیرِ غور ہے۔ آسٹریلیا کے اس فیصلے کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

