سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار، ٹرمپ ‘پراجیکٹ فریڈم’ روکنے پر مجبور؛ امریکی میڈیا کا بڑا انکشاف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے شروع کیا گیا بحری آپریشن ‘پراجیکٹ فریڈم’ بڑے سفارتی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب نے اس مشن میں شریک امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد صدر ٹرمپ کو یہ آپریشن وقتی طور پر روکنے کا اعلان کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو فون کر کے منانے کی کوشش کی، تاہم یہ رابطہ ناکام رہا۔

سعودی عرب پراجیکٹ فریڈم کے اچانک اعلان اور پیشگی اطلاع نہ ملنے پر سخت ناراض ہے، جس کے ردعمل میں ریاض کے فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں کی رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے۔

سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی طیارے ریاض کے اڈے سے اس آپریشن کے لیے پرواز نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ اس اڈے پر امریکی لڑاکا طیارے، ری فیولنگ ٹینکرز اور ائیر ڈیفنس سسٹم تعینات ہیں، جن کے بغیر بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانا مشکل ہے۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے آپریشن روکنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے، اس لیے وہ پراجیکٹ فریڈم کو مؤخر کر رہے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق، فریقین ایک مختصر مفاہمتی یادداشت (MOU) کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ اور مستقبل کے مذاکرات کا فریم ورک طے کرنا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے سخت موقف نے واشنگٹن کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔