اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سفارتی بحالی کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی جواب آج پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوائے جانے کا قوی امکان ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام امریکی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، تاہم تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اس وقت اس کی واحد ترجیح تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی کی ضمانت براہِ راست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت صرف اسی صورت ممکن ہے جب پہلے مرحلے میں جنگ بندی اور پابندیوں کے خاتمے کی شرائط پوری ہوں۔
دوسری جانب، ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرتے ہوئے ‘پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی’ نامی نیا ادارہ قائم کر دیا ہے، جس کے تحت وہاں سے گزرنے والے تمام جہازوں کو اب ایرانی حکام سے رابطہ کرنا ہوگا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ایک ہفتے کے اندر طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور وہ تہران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔
تاہم، ٹرمپ نے روایتی سخت لہجہ برقرار رکھتے ہوئے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق جلد معاہدہ نہ کیا تو نئے حملے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو مفلوج کر دیا ہے، اب بہتر ہے کہ وہ اچھے طریقے سے مذاکرات کی میز پر آئیں”۔

