ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے پہلی ملاقات؛ ڈھائی گھنٹے تک تفصیلی گفتگو

تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ملک کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی ہے۔

مارچ میں رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی کسی بھی اعلیٰ شخصیت کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہے جس کا باضابطہ ذکر منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔

صدر پزیشکیان کے مطابق یہ ملاقات تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، جس میں ملکی و علاقائی امور پر کھلے دل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر نے سپریم لیڈر کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا برتاؤ انتہائی دوستانہ، پراعتماد اور عاجزانہ تھا، جس نے ملاقات کے ماحول کو پرسکون بنا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے طرزِ گفتگو نے براہِ راست مکالمے اور اعتماد کی فضا پیدا کی، اور وہ مکمل طور پر پُرعزم اور متحرک نظر آئے۔

صدر پزیشکیان کا یہ بیان ان تمام افواہوں کی نفی کرتا ہے جو نئے سپریم لیڈر کی صحت اور ان کی زندگی سے متعلق عالمی میڈیا میں گردش کر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سمیت بعض بین الاقوامی حلقوں نے دعویٰ کیا تھا کہ فروری میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے اور وہ کسی نامعلوم مقام پر زیرِ علاج ہیں۔

ان دعوؤں کو اس بات سے تقویت مل رہی تھی کہ مارچ میں منصب سنبھالنے کے بعد سے سپریم لیڈر کی کوئی ویڈیو یا تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔ تاہم، صدر پزیشکیان کے اس تازہ انکشاف اور ایرانی حکام کے اس دعوے کے بعد کہ سپریم لیڈر تیزی سے روبہ صحت ہیں، ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال پر پھیلی بے یقینی کی دھند چھٹنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔