ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے، ایک ایک پائی کا حساب لیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک میں اوور انوائسنگ کے ذریعے ہونے والی مالی بے ضابطگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2017 سے 2022 کے دوران اوور انوائسنگ کا مکروہ دھندہ مسلسل چلتا رہا اور متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے غافل رہے، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایک ایک پائی کی حفاظت کرے اور عوام کو حساب دے۔

اجلاس کے دوران مشتاق احمد سکھیرا کی سربراہی میں بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی، جس کی وزیراعظم نے توصیف کی، جبکہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک نئی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو غفلت کے مرتکب افسران اور اداروں کا تعین کر کے جلد رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعظم نے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے فائننشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو ایک فعال اور بااختیار ادارہ بنانے کا حکم دیا، جس میں ایف آئی اے (FIA) اور انٹیلیجنس بیورو (IB) کے نمائندے بھی شامل کیے جائیں گے تاکہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کا مؤثر سدِ باب کیا جا سکے۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایف بی آر نے ایک جدید ‘سینٹرلائزڈ پرائس ویریفکیشن پورٹل’ تیار کر لیا ہے، جسے جون کے آخر تک تمام بینکوں کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا تاکہ درآمدات و برآمدات کی قیمتوں کی اصل وقت میں نگرانی ممکن ہو سکے۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایف بی آر کے پوسٹ کلیئرنگ آڈٹ ونگ نے اکتوبر 2022 میں اس دھندے کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد اب تک 13 ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

شہباز شریف نے حکام کو مستقبل کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کی تاکید کی تاکہ دوبارہ کبھی قومی امانت میں خیانت کی ہمت نہ کی جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور چیئرمین ایف بی آر سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی اصلاحات کا عمل کسی دباؤ کے بغیر جاری رہے گا اور جو ادارے یا افراد قومی مفاد کے خلاف کام کریں گے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔