متحدہ عرب امارات کو قرض کی واپسی سے پیدا ہونے والا خلا سعودی عرب پورا کرے گا، ولی عہد محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام
اسلام آباد: پاکستان کے معاشی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنی روایتی دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے 3 ارب ڈالر کی خطیر مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ خصوصی پیغام پاکستانی قیادت تک پہنچایا ہے کہ ایک دوست خلیجی ملک کی جانب سے تقریباً 3 ارب ڈالر کی واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ مالی خلا پر پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس مقصد کے لیے ولی عہد نے حال ہی میں سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان کو خصوصی طور پر پاکستان بھیجا تاکہ وہ پاکستانی قیادت کو یقین دہانی کرا سکیں کہ سعودی عرب اسٹیٹ بینک میں مساوی مالیت کے ڈپازٹس رکھ کر زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھرپور مدد کرے گا۔
حکام نے اس اقدام کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹیجک اعتماد اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی قرار دیا ہے۔
وفاقی وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے بیرونی ادائیگیوں کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور متحدہ عرب امارات کو رواں ماہ قرض کی بروقت ادائیگی کر دی جائے گی۔
پاکستان کو اس ماہ تقریباً 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا ہے، جس میں سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگی پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی آمد پاکستان کے لیے بڑی معاشی راحت کا باعث بنے گی۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس پہلے ہی سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں، جبکہ حالیہ مذاکرات میں تیل کی سہولت (Oil Facility) کو مزید 5 سال کے لیے بڑھانے اور مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کے نئے قرض کی درخواست پر بھی مثبت غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی سول اور عسکری قیادت نے سعودی ولی عہد کے اس ذاتی اور بروقت اقدام پر گہرے تشکر کا اظہار کیا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی اس مالی معاونت سے نہ صرف ملکی ذخائر میں بہتری آئے گی بلکہ دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ جاری بات چیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
سعودی وزیرِ خزانہ کے حالیہ دورے کے دوران ادھار تیل کی سہولت، اقتصادی تعاون کی وسعت، اور تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے طویل مدتی معاشی استحکام میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
