پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو ویلکم کرتے ہیں، دوسروں کی صلح کرانے والے اپنوں سے بھی سیز فائر کریں، چیئرمین پی ٹی آئی

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی سطح پر ملک کو ملنے والی عزت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی پاکستان کی آواز لگتی ہے، پی ٹی آئی ملک و قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے ملکی مفاد کی خاطر اپنا جلسہ منسوخ کیا اور پاکستان کے امن پسند کردار کو سیلیبریٹ کیا۔

بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات کے اگلے دور میں عارضی سیز فائر مستقل معاہدے میں بدل جائے گا، کیونکہ اس جنگ سے نہ صرف خطہ بلکہ پاکستان کی معیشت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی مکمل ‘بریک تھرو’ نہیں ہوا، لیکن خوش قسمتی سے ‘بریک ڈاؤن’ بھی نہیں ہوا، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔

بیرسٹر گوہر نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی صلح پسندی ہے کہ آپ دوسروں کی صلح کرا رہے ہیں لیکن اپنوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں؟ انہوں نے زور دیا کہ اگر دنیا میں سیز فائر کرایا جا رہا ہے تو ملک کے اندر بھی ‘سیز فائر’ ہونا چاہیے، کیونکہ عالمی استحکام کے لیے داخلی استحکام پہلی شرط ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑے لیڈر سے ڈاکٹرز اور وکلاء کو ملنے نہ دینا ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوششیں بند کی جائیں تاکہ ملک مزید تناؤ اور نفرت سے بچ سکے۔

سیاسی مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ فی الوقت حکومت کے ساتھ کسی قسم کی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم انہیں امید ہے کہ آئندہ ایک ڈیڑھ ماہ میں مذاکرات کا کوئی سلسلہ چل پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سے بات چیت کا مکمل اختیار محمود خان اچکزئی کے پاس ہے۔ اپنی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین شپ بانی پی ٹی آئی کی امانت ہے اور وہ جب حکم دیں گے، وہ یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے عدالتی نظام پر بھی بات کی اور کہا کہ سیاسی استحکام آنے سے ہی صوبائی حکومتیں اور دیگر ادارے بہتر کام کر سکیں گے، ورنہ مقدمات کو لٹکانے سے ملک کا بے تحاشا نقصان ہو رہا ہے۔